اس بات نے، میرا پرانے عہد نامے کو پڑھنے کا طریقہ بدل دیا –
”سر ہو، دم نہیں“ سے مسیح تک: ایک ضروری اصلاح با
میں بچپن سے پرانے عہد نامے میں سے بہت سا کلام سنتا آیا ہوں۔ اگر آپ میری طرح پینٹیکوسٹل (Pentecostal) پس منظر سے ہیں، تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ گھروں کی عبادات ، روزوں کی دعائیں، اور اتوار کی عبادات—ہر جگہ پرانے عہد نامے کی کہانیاں سنائی دیتی تھیں۔
ابراہام کا سب کچھ چھوڑ دینا۔
یوسف کا گڑھے میں سے اٹھنا۔
داؤد کا جالوت کو شکست دینا۔
ہم صرف یہ کہانیاں نہیں سنتے تھے، بلکہ انہیں محسوس بھی کرتے تھے۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں نے واعظین کو جوش کے ساتھ یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہوگا
· ”آج تمہارا جالوت گر جائے گا!
· تو دم نہیں بلکہ سر ہوگا!
· خدا تجھے یوسف کی طرح بلند کرے گا!“
سچ کہوں تو ان کہانیوں نے میرے بچپن کے ایمان کو شکل دی۔ انہوں نے ہمیں حوصلہ دیا، ہمیں متاثر کیا ، اور امید بخشی۔ انہوں نے ہمیں زیادہ زور سے دعا کرنا اور مضبوط ایمان رکھنا سکھایا۔
لیکن جیسے جیسے میں بڑا ہوا اور بائبل کو گہرائی سے پڑھنا شروع کیا، تو کچھ باتیں مجھے پریشان کرنے لگیں۔ جن طریقوں سے ان کہانیوں کو لاگو کیا جاتا تھا، وہ ہمیشہ ٹھیک محسوس نہیں ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ اس بات سے میل نہیں کرتے تھے کہ اصل میں کلام کیا کہہ رہا ہے۔
کیونکہ کہیں نہ کہیں:
ہم اسرائیل بن گئے۔
ان کے وعدے ہماری ضمانتیں بن گئیں۔
اور مسیح آہستہ آہستہ مرکز سے غائب ہو گیا۔
اور میں نے سوال کرنا شروع کیا: کیا واقعی ہمیں پرانے عہد نامہ کو اس طرح پڑھنا چاہیے؟
کچھ عرصے کے لیے تو میں نے پرانے عہد نامہ میں سے کلام سننا ہی چھوڑ دیا۔ اگر کوئی خادم پرانے عہد نامہ میں سے کلام شروع کرتا، تو میرا دل اٹھ جاتا تھا۔
مگر خدا نے میرے اندر یہ بات جگائی:
”پرانے عہدنامہ کو رد نہ کر۔ گہرائی میں جا، اور اس میں چھپا خزانہ تلاش کرو ۔“
اس سفر نے سب کچھ بدل دیا۔ اور میں نے جو سیکھا، وہ یہ ہے۔
1. پرانا عہد نامہ ہمارے لیے لکھا گیا ہے، مگر براہِ راست ہمیں مخاطب نہیں کرتا
سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اس دور کے لوگوں کو جن کے لیے یہ کلام کیا جا رہا تھا نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس کا بڑا حصہ اسرائیل کے لیے مخصوص عہدوں اور تاریخی حالات میں لکھا گیا تھا۔
مگر ہمارے کلچر میں ”گواہیوں“ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے:
”خدا نے مجھے یہ وعدہ دیا۔“
”یہ آیت میری زندگی میں پوری ہوئی۔“
گواہیاں طاقتور ہوتی ہیں، لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے ہمارے کلام پڑھنے کے طریقے کو بدل دیا ایسے کہ موجودہ حالات کے لیے اس کلام کو ذاتی وعدوں کے طور پر استعمال کرنا۔ آخر کار، بائبل خدا کی کہانی کی کم اور میری کامیابی کی کتاب زیادہ بن گئی۔
یاد رکھیں: اپنی یا دوسروں کی گواہی سے اپنا عقیدہ (theology) نہ بنائیں۔ میں اِس بات کا انکار نہیں کر رہا كے یہ خدا كے کام ہیں . لیکن جب ہماری ذاتی کہانیوں کا خدا ، بائبل كے خدا سے میل نہیں کھاتا ، تو مایوسی لازمی ہوتی ہے .
مثال: استثنا 28:13 — ”تو سر ہوگا، دم نہیں۔“
یہ ایک عہد کا وعدہ تھا جو بنی اسرائیل کو عہدِ موسوی کے تحت دیا گیا تھا، جو اس سرزمین میں فرمانبرداری سیاسی اقتدار اور قومی برکت سے وابستہ تھا۔
ہم وہ اسرائیل نہیں؛
ہم نئے عہد میں کلیسیا ہیں۔
کیا ہم ان آیات کو لفظ بہ لفظ اپنا سکتے ہیں؟ نہیں۔
کیا اس کی اہمیت ہے؟ بالکل۔
تو ہم ایسی آیات کا کیا کریں؟
ہم اُنہیں رد نہیں کرتے
ہم ان کی تفسیر مسیح کے وسیلے سے کرتے ہیں اور گہری سچائی کو دیکھتے ہیں۔
خدا فرمانبرداری کو برکت دیتا ہے—لیکن یہ کوئی لین دین نہیں، بلکہ تبدیلی کا پھل ہے۔ “سر” ہونا صرف رتبے کی بات نہیں؛ بلکہ اس کی حکمرانی کے نیچے زندگی گزارنے، اس کی آواز سننے، اس کے کلام کی پیروی کرنے، اور اس دنیا کے بُتوں اور نظاموں کو رد کرنے کا نام ہے۔ ہر میدانِ زندگی میں قیادت یا کامیابی کی ضمانت اس آیت سے نکالنا نادانی ہوگی۔
ایک اور مثال یعبیض کی دعا ہے، جو ہم عام طور پر اپنی دعاؤں میں (1 تواریخ 4:10) سے لیتے
ہیں
اور یعبیض نے اِسرائیل کے خُدا سے یہ دُعا کی آہ تُو مُجھے واقعی برکت دے اور میری حدُود کو بڑھائے اور تیرا ہاتھ مُجھ پر ہو اور تُو مُجھے بدی سے بچائے تاکہ وہ میرے غم کا باعِث نہ ہو! اور جو اُس نے مانگا خُدا نے اُس کو بخشا۔
عام تفسیر
”اگر تم یہ دعا کرو گے، تو خدا تمہارا کاروبار, خدمت اور کامیابی بڑھائے گا۔“
اصل تناظر
یہ آیت صرف ایک شخص کی دعا کو بیان کرتی ہے۔یہ کوئی فارمولا نہیں جسے خدا نے ایمانداروں کو دہرانے کا حکم دیا
آج کا درست اصول
خدا خالص دل کی دعا کو سنتا ہے، اور یعبیض کی دعا کو دہرانا غلط نہیں۔ لیکن کلامِ مقدس یہ وعدہ نہیں کرتا کہ اس دعا کو دہرانے سے کامیابی حاصل ہوگی۔
پرانا عہد نامہ ہمارے لیے اب بھی ہے، لیکن ہمیں اسے احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ اصول برقرار رہتا ہے خدا فرمانبرداری کی قدر کرتا ہے۔ لیکن اس کی تکمیل ہر دفعہ ترقی یا مالی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ یہ خدا کی حکمرانی کے نیچے زندگی ہے جو صرف اسی کے لیے وفاداری پیدا کرتی ہے۔۔
2. ”میرا وعدہ“ سے ”اس کی کہانی“ تک
یہاں سب کچھ بَدَل جاتا ہے.
ہم اتنے خود غرض ہیں کہ ہمارا دھیان ہمیشہ اس بات پر لگا رہتا ہے کہ ہمیں ہمارے سوالوں کے جواب مل جائیں اور جب خدا ہماری امید كے مطابق جواب نہیں دیتا ، تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں. پِھر ہم اپنی سمجھ پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں. جوابوں کی اپنی ضرورت کو پُورا کرنے كے لیے، ہم پُرانے عہد نامہ سے ایسی آیات چن لیتے ہیں جو ہمیں اچھا اور خوش محسوس کراتی ہیں، اور آخرکار انہیں خدا كے وعدے قرار دیتے ہیں
ہماری بہت سی میٹنگز میں، كلام مقدس کو اکثر اِس طرح لیا جاتا ہے :
“آج خدا مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟
`مگر اصل سوال یہ ہے:
”خدا اپنے بارے میں کیا ظاہر کر رہا ہے؟“
یسوع نے لوقا 24 میں خود کہا تھا کہ بائبل میں ہر چیز اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ پورے پرانے عہد نامے کو اسی نظر سے دیکھنا ضروری ہے:
•یہ خدا کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
• یہ نجات کی کہانی میں کہاں فٹ ہوتا ہے ؟
•یہ مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتی ہے؟
فسح کا برہ۔
قربانی کا نظام۔
ہیکل (Temple)۔
سب اسکی طرف اشارہ کرتے ہیں .
پرانا عہد نامہ ایک حوصلہ افزا زندگی کے درس کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک الہی کہانی ہے جو ایک شخص کی طرف بڑھتی ہے — یسوع مسیح۔
لیکن ہمیں احتیاط بھی کرنی چاہیے .
ہر حوالے (passage) میں زبردستی یا مصنوعی طور پر مسیح سے تعلق نکالنا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ عبارتیں واضح طور پر اُس کی طرف اشارہ کرتی ہیں (جیسے اسحاق کی قربانی یا فسح)، جبکہ دیگر خدا کے کردار کو اس انداز میں ظاہر کرتی ہیں جو ہمیں اُس کے لیے تیار کرتی ہیں۔
3. بیداری کی آگ… اور اس کے اثرات
سچ کہیں تو یہیں پر ہم میں سے بہت سے لوگ تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ ہماری پرورش جس انداز کی خدمت میں ہوئی، اس کی جڑیں ابتدائی بیداری کی تحریکوں میں ملتی ہیں۔ یہ جذباتی، فوری اور تجربے پر مبنی ہوتی تھی۔
میں نے دیکھا ہے کہ دعاؤں میں لوگ کہتے تھے:
”اے خدا، کیا تو نے وعدہ نہیں کیا؟“
”ہم اس آیت کا دعویٰ (claim) کرتے ہیں!“
یہ ایمان کو مضبوط کرتا تھا اور ہم خدا کا شکر کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ایک تبدیلی آئی: اطلاق کی جگہ تفسیر نے لے لی۔
تو:
داؤد ہم بن گئے۔
جالوت ہمارے مسائل بن گئے ۔
فتح فوراً کامیابی بن گئی ۔
مگر حقیقت میں :
داؤد مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے •
صلیب پر شکست کھایا ہوا دشمن ہے۔ جالوت •
• فتح پہلے روحانی ہوتی ہے پِھر حالات میں نظر آتی ہے
جب ہم ہر کہانی کو اپنی کہانی بنا دیتے ہیں، تو ہم خدا کی کہانی کو کھو دینے کا خطرہ مول لیتے ہیں
بائبل اصل میں اس بارے میں نہیں کہ ہم ہیروز بن جائیں۔ یہ اس بارے میں ہے کہ خدا اپنے آپ کو ہیرو کے طور پر ظاہر کرے، اور ہم صرف اس کی کہانی کا حصہ ہیں۔
4. پرانا عہد نامہ پڑھنے کا بہتر طریقہ
ایک سادہ طریقہ:
پڑھو ← سمجھو ← تفسیر کرو ← لاگو کرو
ہم سب نے دعا کی ہے:
“اے خدا، ان سوکھی ہڈیوں میں جان ڈال!”
لیکن اصل میں، یہ سوکھی ہڈیاں اسرائیل کو جلاوطنی میں دکھاتی ہیں، نہ کہ ایک فرد کی مشکلات کو۔
تو سوال یہ کریں
.1اس دور کے لوگ، یعنی جن کو یہ لکھا گیا تھا، ان کے لیے اس کا مطلب کیا تھا؟
مثال: حزقی ایل ۳۷، اسرائیل کا جلاوطنی میں ہونا۔
.2یہ خدا کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے:
· وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
· وہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔
.3آج ہم پر کس طرح لاگو ہوتا ہے:
· خدا جو ٹوٹا ہوا ہے اسے بحال کرتا ہے۔
· وہ اپنی روح سے روحانی زندگی دیتا ہے۔
فرق دیکھیے
ہم اصل وعدے کو نہیں، بلکہ اصول کو لاگو کرتے ہیں۔
یہ ہمیں جھوٹی توقعات سے بچاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا نے ہر مشکل کو دور کرنے کا وعدہ نہیں کیا
کبھی وہ چھڑاتا ہے۔
کبھی وہ برداشت کرنےکی طاقت دیتا ہے۔
اور دونوں ہی اس کا فضل ہیں۔
5. نیا عہد، پرانے کی تفسیر کرتا ہے
رسولوں نے پرانے عہد کو لگاتار مسیح کے ذریعے سمجھا۔
پولس رسول فرماتا ہے:
”خدا کے سب وعدے مسیح میں ’ہاں‘ کے ساتھ ہیں۔“ (2 کرنتھیوں 1:20)
یہ نہیں
ویزہ کی منظوری •
نوکری میں ترقی •
مالی کامیابی •
بلکہ خود یسوع مسیح میں ہے۔
خُدا کے وعدوں کی تکمیل مالی کامیابی نہیں، بلکہ مسیح خود ہے۔
6. وفاداری سے کلام کس طرح سنانا چاہیے:
پرانے عہد نامہ میں سے ایک واعظ کو:
تاریخی پس منظر سمجھانا چاہیے۔
خدا کی حقیقت دکھانی چاہیے۔
مسیح اور نجات کی طرف اشارہ کرنا چاہیے۔
حکمت سے لاگو کرنا چاہیے۔
یہ منادی کو سطحی ترغیب بننے سے بچاتا ہے اور اس کی گہرائی کو بحال کرتا ہے
7. سننے والوں کے لیے ایک پیغام
یہ صرف پادریوں كے لیے نہیں ; یہ ہم سب كے كے لیے
اگلی دفعہ جب آپ پُرانے عہد میں سے کلام سنیں، تو پوچھیں
· کیا یہ وعدہ خاص ہے یا عام؟
· کیا مسیح مرکز میں ہے، یا میں خود؟
· کیا تناظر واضح کیا جا رہا ہے، یا چھوڑ دیا گیا ہے؟
یہ سوالات آپ کے ایمان کو کمزور نہیں کرتے ; بلکہ اسے محفوظ رکھتے ہیں
حتمی خیال
یہ ہماری وراثت پر تنقید نہیں۔
ہم خدا کا شکر کرتے ہیں
دعا کی زندگی کے لیے •
کلام کی بھوک اور پیاس کے لیے •
پرستش میں جذبے کے لیے •
لیکن اب خدا ہمیں گہرائی میں بلا رہا ہے کہ ہم بالغ بنیں۔
آئیے ہم
جذباتی تفسیر کو ← کلام کی سمجھ میں بدلیں •
انسان کو ذہن میں مرکز رکھ کر نہ پڑھیں ← مسیح کو مرکز رکھیں •
دعوے کیے ہوئے وعدے نہیں ← سمجھی ہوئی سچائی •
پرانا عہد نامہ نہ پرانا ہے، نہ بیکار، اور نہ ہی گمراہ کرنے والا ہے؛
لیکن اسے صحیح طور پر، نئے نظریے سے پڑھنا ضروری ہے۔
اگر ہم اسے غلط طرح سے پڑھیں، تو جھوٹی امیدیں پیدا ہوتی ہیں۔
اگر درست پڑھیں، تو مسیح کا جلال گہرے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
یہ صرف علمی اصلاح نہیں—
یہ روحانی بیداری ہے۔
غور و فکر کے سوالات
1. کیا آپ کبھی مایوس یا ناامید ہوئے جب پرانے عہد کا کوئی وعدہ آپ کی زندگی میں پورا نہیں ہوا جیسے آپ نے امید کی تھی؟ کیوں؟
2. آپ کے تجربے میں، گواہیوں نے آپ کے بائبل کو پڑھنے کے طریقے کو کیسے شکل دی ہے؟
3. کیا آپ نے کبھی کسی آیت پر ”دعوٰی“ یا ”حق جتایا“ ہے جس نے بعد میں آپ کو ذہنی الجھن میں ڈالا یا ناامید کیا؟ آپ نے اس سے کیا سیکھا؟
4. اسرائیل کو دیا گیا وعدہ اور آج کے لیے ہم پر لاگو ہونے والے اصول میں کیا فرق ہے؟
5. پرانے عہد میں مسیح کو مرکز پر دیکھنا کیوں ضروری ہے
6. کیا آپ کسی ایسے واعظ کا سوچ سکتے ہیں جہاں دھیان یا زور زیادہ ”آپ“ پر تھا، خدا پر نہیں؟ اس کا کیا اثر ہوا؟
7. کلام کی درستگی میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنی پینٹیکوسٹل (Pentecostal) وراثت کی عزت کیسے رکھیں؟
8. پرانے عہد کی کون سی وہ ایک کہانی ہے جسے آپ اب مسیح-مرکز نظریے سے دوبارہ دیکھنا چاہیں گے؟.
9. یہ کلام کی سمجھ دعا کرنے کے طریقے کو کیسے بدل سکتی ہے؟
.10آج سے آپ پرانے عہد کو کس فرق طریقے سے پڑھ سکتے ہیں؟



